پاک۔افغان سرحد کو باقاعدہ کرنے کے منصوبہ پر عمل آوری جاری رہے گی:پاکستانی خارجہ دفتر

اسلام آباد: پاکستان کے خارجہ دفتر نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی مخالف حکمت عملی کے ایک جزو کے طور پر افغانستان سے لگتی ہوئی سرحد کو باضابطہ کرنے کے حوالے سے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی جانب کام کرتا رہے گا نیز افغان حکومت کو بھی تلقین کرتا ہے کہ وہ اس ضمن میں تعاون کرے۔
خارجہ دفتر کی ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ سرحد سے دراندازی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے کا پاکستان نے عزم کر رکھا ہے اور حکومت افغان کی جانب سے تعاون افغانستان اور خطہ میں پائیدار امن و استحکام کو فروغ دینے کے ہمارے مشترکہ مقصد کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خارجہ ترجمان نے ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں کیا ہے جب تاشقند میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے دوران فرصت کے لمحات میں دونوں ملکوں کے سیاسی قائدین کی ملاقات متوقع ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کے لیے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز تاشقند میںہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان 2500کلو میٹر طویل سرحد کو باضابطہ کرنے کا ہمیشہ مخالف رہا ہے کیونکہ وہ اسے بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کرتا ۔اور تازہ ترین بحران پاکستانی حکام کا سرحد سے دراندزی روکنے کے لیے طرخوم گیٹ تعمیر کرنے کے خلاف افغانستان کے احتجاج کے باعث پیدا ہو ا ہے۔