سندھ طاس معاہدے پرمذاکرات کے لیے ہندوستانی وفد پاکستان پہنچا

اسلام آباد: دو سال کی مدت کے بعد حکومتی سطح پر دو طرفہ مذاکرات کے احیا کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک 10رکنی ہندوستانی وفد دریائے چناب پر تین متنازعہ آبی پراجکٹوں کے حوالے سے دو روزہ بات کرنے کے لیے لاہور پہنچ گیا۔ پاکستان کو جموں و کشمیر کے باہمولہ میں 240میگا واٹ اڑی II-پراجکٹ اور کارگل میں 44میگا واٹ کا چوٹاک پراجکٹ کے ڈیزائن پر اعتراض ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کو ہندوستان کے پانچ دیگر ہائیڈرو الیکٹرسٹی پراجکٹوں پکال ڈل،ریٹل، کشن گنگا۔ میار اور لوور کالنی پر بھی تشویش ہے۔اس ضمن میں اس نے 57سالہ پرانے سندھ طاس معاہدے کے ثالث عالمی بینک سے رجوع کیا تھا۔
مذاکرات میں فریقین متنازعہ کشن گنگا اور ریٹل پن بجلی پراجکٹوں پر تبادلہ خیال نہیںکریں گے۔کیونکہ اس معاملہ کو پاکستان عالمی بینک میں لے جا چکا ہے۔ہندوستانی وفد کی قیادت انڈین انڈس واٹر کمشنر پی پی سکسینہ اور پاکستانی وفد کی سربراہی پاکستنی انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ کر رہے ہیں۔

Title: indian team arrives to discuss water projects | In Category: پاکستان  ( pakistan )