مردان یونیورسٹی کے مقتول طالبعلم کے خلاف توہین رسالت کی کوئی شہادت نہیں

اسلام آباد: خیبر پختون خوا کے انسپکٹر جنرل پولس صلاح الدین خان محسوس نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مردان یونیورسٹی کے تین طلبا کی ہلاکت خیز پٹائی کے حوالے سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے دوران ایسے کوئی شواہد نہیں پائے گئے جن سے یہ ثابت ہوتاہوکہ یہ تینوں طلبا مشعال خان، عبداللہ اور زبیرتوہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔
محسود نے کہا کہ عبداللہ نے بھی اپنے اور دیگر دو ساتھیوں پر لگائے گئے توہین مذہب کے الزامات کی تردید کی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ مردان ہونیورسٹی کیمپس میں ان تینوں طلبا پر توہین رسالت کاالزام لگا کر اس بے رحمی سے مارا پیٹا گیا تھا کہ ان میں سے ایک مشعال نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ دیگر دو عبد اللہ اور زبیر شدید زخمی ہوئے تھے۔پولس سربراہ نے مزید بتایا کہ اس معاملہ میں59مشتبہ گرفتار کیے گئے ہیں جن میں سے چھ یونیورسٹی عملہ کے ہیں۔

Title: no evidence that mardan university students committed blasphemy ig kp | In Category: پاکستان  ( pakistan )