نواز شریف بچ گئے، سپریم کورٹ کا انشقاقی فیصلہ،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنامہ دستاویزات افشا معاملہ میں انشقاقی فیصلہ سناتے ہوئے پنامہ لیکس میں مذکور بدعنوانی میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے کنبہ کے ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا۔سپریم کورٹ نے اس کیس کی 26 سماعتوں کے بعد 23 فروری 2017کو جو فیصلہ محفوظ کیا تھا اسے کم و بیش دو ماہ بعد آج جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز فضل خان، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسان پر مشتمل 5ججی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کورٹ روم نمبر ون میں پڑھ کر سنایا۔
حتمی فیصلہ میں 3-2سے اختلاف رہا۔ جس میں جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اختلافی نوٹ لکھے۔ 540صفحاتی فیصلہ جسٹس اعجاز نے تحریر کیا۔ اپنے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کو یہ ہدایت بھی کی کہ ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کو اپنی کارگذاری سے مطلع کیا جائے۔فیصلہ سنتے ہی مسلم لیگ نواز کے حامیوں نے زبردست جشن منانا شروع کر دیا اور ’گو عمران گو‘ کے نعرے لگائے۔ اس فیصلہ کا نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی بڑی بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔
سب اسی فکر میں غلطاں تھے اور قیاس آرائیں کی جارہی تھیں کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران 35سماعتوں کے دوران جو 25ہزار دستاویزات پیش کی گئیں ان کی روشنی میں فیصلہ کس کے حق آئے گا۔ واضح رہے کہ پاناما لیکس میں سات سمندر پار واقع کمپنیوں کے انکشاف پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے نواز شریف، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کو قومی اسمبلی کے لیے نااہل قرار دینے کی درخواستیں دائر کررکھی تھیں۔ اور تینوں کی سپریم کورٹ سے ایک ہی استدعا تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا جائے۔

Title: panamagate case sc orders jit to investigate sharif family involvement in corruption | In Category: پاکستان  ( pakistan )