وزیر مالیات اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں پیش، سماعت16اکتوبر تک ملتوی

اسلام آباد: (یو این آئی)پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار آمدنی کے معلوم ذرائع سے زائد اثاثہ جات کا ذخیرہ کرنے کے الزام میں آج یہاں احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں مسٹر ڈار کی احتساب عدالت میں یہ چوتھی پیشی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مسٹر ڈار کے خلاف دائر بیورو ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران بیوروکے وکلا نے مزید دو گواہان کو عدالت میں پیش کردیا۔
ان گواہان میں البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز شامل ہیں، جنہوں نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ شاہد عزیز نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار نے دو سال قبل 2015 میں 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تاہم پاناما پیپرز کیس کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد جنوری 2017 میں انہوں نے اپنی رقم واپس نکال لی تھی۔
طارق جاوید نے عدالت کو بتایا کہ مسٹر ڈار نے 1991 میں لاہور میں موجود البرکہ بینک کی برانچ میں اکاؤنٹ کھلوایا تھا جس کے متعلق تمام دستاویزات احتساب بیورو لاہور کے حکام کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ بیوروکے وکلاءنے عدالت کو بتایا کہ بیورو کے پاس اسحٰق ڈار کے خلاف 28 گواہان موجود ہیں جن کو کسی بھی وقت عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
مسٹر ڈار پر 27 ستمبر کو بیور ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

Title: ishaq dar corruption casehearing adjourned till oct 16 | In Category: پاکستان  ( pakistan )