زینب کی تصویر دیکھ کر اپنے بچوں کا خیال ذہن میں آتا ہے: عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے قصور میں زینب نام کی کمسن بچی سے جنسی زیادتی اورپھر قتل کرنے کی وحشیانہ واردات پر شدید ردعمل اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زینب کی تصویر دیکھ کر اپنے بچوں کا خیال ذہن میں آتا ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ مہذب معاشرے میں ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ اس قسم کے وحشیانہ اور بیہودہ واقعات کا اعادہ نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ دیگرملکوں میں بھی اس قسم کی وارداتیں ہوتی ہیں لیکن وہاں مجرم گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔عمران خان نے زینب کے والد کے حوالے سے کہاکہ ہمیں انصاف پولس سے نہیں فوجی سربراہ سے ملے گا۔
عمران نے کہا پولس کو تباہ کیا گیا ہے اس لیے پولس پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو گیا ہے ۔پولس وہی کا م کرتی ہے جس بات کا حکم شریف خاندان سے جار ی کیا جاتا ہے۔ماڈل ٹاؤن کے متاثرین آج بھی انصاف کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور سڑکوں پر ہیں۔جبکہ دنیا نے دیکھا کہ پولس نے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی۔ کون سی پیشہ ورانہ پولس ایسا کرتی ہے۔
ہمارے کارکن حق نواز کو گولی مار کر ہلاک کیا گیاکسی نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے شریف برداران کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ کسی نے پنجا ب پر اتنی حکومت نہیںکی جتنی ان دونوں بھائیوںنے کی ہے۔
عمران خان نے کہاکہ ہم پنجاب سے آئی جی پولس کولے کر آئے اور انہیں کامل اختیارات دیے جس کے باعث خیبر پختون خوا میں جرائم میں اور بھتہ خوری میںکمی آئی ۔
پنجاب پولس ایسی نہیں ہے اسے خراب کیا گیا کیونکہ پولس میں ساری بھرتیاں رائے ونڈ سے کی جاتی ہیں۔پنجاب پولس سے مجھ پر دہشت گردی کے 6مقدمات درج کرائے گئے۔شیریںمزاری پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔جبکہ چار سال میں ایک بھی پرچہ مخالفین کے خلاف نہیںکٹوایا گیا۔

Title: imran khan press conference | In Category: پاکستان  ( pakistan )